Breaking News

سید خادم رسول عینی کا قلم۔۔۔۔۔۔۔۔از : رفعت کنیز، حیدر آباد۔۔۔۔۔۔۔۔

ادب کی دنیا میں بے شمار ادبا ہیں ،کوئ مضمون نگار، کوئ صحافی، کوئ کہانی لکھنے والے ،کوئ نعتیہ کلام کہنے والے۔ مشہور شعرا کے قلم سے دنیا کی حقیقت بیاں ہوتی ہے، ان کے قلم سے روشنی کی کرنیں پھیلنے لگتی ہیں ، ان کے قلم سے دنیا کے راز بیاں ہوتے ہیں، ایسے حالات بیاں ہوتے ہیں کہ حق خود بہ خود ظاہر ہوتا ہے اور جھوٹ کو مات ملتی ہے ۔قلم ہے ہی وہ طاقت ہے جو حقیقت کو بیاں کرتا ہے۔

  قلم کا وجود نہ ہوتا تو شاید تقدیریں بھی نہیں لکھی جاتیں۔ اک قلم ہی ہے جو ساری دنیا کا بوجھ اٹھاۓ ہوے ہے ،ورنہ کسی میں اتنی ہمّت نہیں کہ سچ کو ظاہر کرے ،کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کبھی کبھی سچ بولنے کے لۓ زبان بھی ساتھ نہیں دیتی اور سچ بولنے سے کتراتی ہے ، لیکن قلم میں وہ طاقت ہے جو ساری دنیا کی تاریخ کو بیاں کرتا ہے ، یہ تاریخ کو بدل بھی سکتا ہے ۔

اسی قلم سے آج ایک حقیقت لکھ رہی ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس قلم کا استعمال کر کے دور حاضر کے ایک مشہور و معروف شاعر "سید خادم رسول عینی” نے اپنے نعتیہ کلام ،اپنی غزلوں ،اپنی شاعری ،اپنے مضامین کے ذریعہ کئ لوگوں کے دلوں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔عینی کے قلم سے عینی کی سوچ ظاہر ہوتی ہے۔ عینی پر اللہ ربّ العزّت کا بہت بڑا کرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خادم رسول عینی کو قلم کے سنبھالنے کی طاقت دی ہے اور اس قلم سے اس حقیقت کو بیاں کرنے کی طاقت دی ہے جس کو بیاں کرنے کے لیے کسی زمانے میں نہ جانے کتنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ عینی اپنے قلم سے ، خوبصورت الفاظ کے ذریعہ بہترین انداز میں اتنے پیارے کلام لکھتے ہیں جس میں ایمان افرز باتیں ، عظمت مصطفیٰ،خدا کی وحدانیت ، حالات حاضرہ نمایاں طور پر ظاہر ہوتے ہیں ۔ عینی کے کلاموں کو پوری توجہ کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے ۔ عینی نے اپنے ہر کلام کو اک نءی فکر ، اک نءے انداز، اک نئ سوچ میں پیش کیا ہے۔ تمام چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوے عینی نے بہت ہی شگفتگی کے ساتھ اپنے جذبات ، اپنی عقیدتوں،اور محبتوں کو ظاہر کیا ہے۔ عینی کے ہر کلام میں چاہے وہ غزل ہو، چاہے وہ نعت ہو، چاہے وہ نظم ہو عشق حقیقی کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ کے ہر کلام میں تفکّرات کی جھلکیاں نظر اتی ہیں جو عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر اور حالات حاظرہ سے متاثر ہو کر انہوں نے کہا ہے ۔

  عینی کے کلام عشق حقیقی یعنی نبی ﷺ کے عشق پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایک کلام میں عینی یوں  بیان‌ کرتے ہیں:

آئی ہے مدینہء اقدس سے کیا تازہ ہوا سبحان اللہ
قربان ہو جاتی ہے خود اس پر ہی صبا سبحان اللہ

جس محبت کے عالم میں عینی نے یہ کلام کہا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مدینے سے جو بھی فضا جس موڑ پر بھی چلنے لگے ہر دل کو خوشگوار کرتی ہے اور عاشق رسول ہی اس محبت کی فضا کو محسوس کرسکتے ہیں۔

اسی کلام کے ایک اور شعر میں انہوں نے کہا ہے :

پڑھتا ہوں جب نعت آقا جنّت سے مہک اجاتی ہے
کیا خوب ملی ہے خالق سے مجھ کو یہ جزا سبحان اللہ

آپ نے بلکل درست فرمایا کہ  جب نعت پاک پڑھی جاتی ہے تو ماحول میں وہ رنگینیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو فضا میں گھل مل جاتی ہیں ، سماں خوبصورت اور مقدس  بن جاتا ہے،  ہر کوئ نعت سننے میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ نبیﷺ کی محبّت کا احساس، آپ کی  عقیدت کا جذبہ   ابھرنے لگتا ہے۔ لوگ نعت پاک کو سننے میں اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ  جنّت کے نظاروں کا تصوّر کرنےلگتے ہیں اور جس کو بھی نعت پڑھنے اور لکھنے  کا شرف حاصل ہوتا ہے، 

اس پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہوتا ہے ۔یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک خصوصی انعام ہے۔

خادم رسول عینی ایک اور نعت میں کہتے ہیں:

لایۓ تشریف جان امن واماں
اب کہاں ظلم کی رہائ ہے

عینی حالات حاظرہ کا جائزہ لیتے ہوے کہتے ہیں کہ اب اگر مومنوں کا کوئ سہارا ہے تو صرف سرور کائنات ﷺ ہی ہیں اور اپ ہی ہیں جو اس دنیا کو ظلم سے بچا سکتے ہیں اور نبیﷺ کی ہمیں ہر دور میں ضرورت ہے ۔

ایک اور شعر میں کہتے ہیں :

یا نبی کیجۓ کرم کی سحر
رات پھر زندگی میں آئی ہے

بے شک ساری دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئ ہے ، جس پر ظلم اپنا سایہ کیۓ ہوۓ ہے۔ صرف آپ ﷺ ہی اس اندھیرے کو دور کرسکتے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی آمد سے پہلے عرب میں شرک اور بد عملی پھیلے ہوءے تھے یعنی بتوں کو پوجا جاتا تھا اور ظلم حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ، آپ ﷺ کے آنے کے بعد بتوں کو توڑا گیا، بدعملی دور ہوگئ، ظلم مٹتا چلا گیا اور ظالم مجبور و معذور ہوگیا ، دشمن اسلام کمزور ہوگیا، ہر طرف امن وسکوں چھا گیا۔

عینی نے اپنی ایک غزل میں کہا ہے:

یہ کیسا ضابطہ ہے جرم ایک شخص کرے
لگے ہر ایک پہ الزام دیکھتے رہیۓ

خلوص اور محبّت کا گر رہے فقدان
تمام کام ہو ناکام دیکھتے رہیۓ

مقام عدل میں ہی جسم عدل کا عینی
ہوا ہے قتل سر عام دیکھتے رہیۓ

عینی کے ان اشعار پر غور کریں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے حقیقت کی عکاسی کی ہے۔آج کل ایسا ہو رہا ہے کہ جرم کی ابتدا کوئ اور کرتا ہے اور سزا کسی دوسرے کو ملتی ہے۔ آج کے دور میں خلوص و وفا کی کوئ قیمت نہںں ۔ یہاں صرف بےحیائی عام ہے ۔انسانیت کا اب کوئ رواج نہیں رہا ۔جہاں انصاف ہونا تھا اب اسی جگہ ناانصافی کی سر پرستی ہو رہی ہے ۔قانون اور انصاف ایک مزاق بن کر رہ گءے ہیں ۔اب انصاف کی امید نظر نہیں آتی۔ یہاں تو بے گناہگار کو گنہگار ثابت کیا جاتا ہے اور گناہ گار کو بے گناہ ۔

عینی کی ان تفکّرات سے ثابت ہوتا ہے کہ عینی کی سوچ کس قدر حساس ہے۔ اپنے اصول، اپنے حقوق اور اپنے وجود کو لیکر کس قدر عینی فکر مند ہیں۔
وہ کہتے ہیں:

کسی بھی غیر سے اب دل نہیں لگانا ہے
جو اپنے روٹھے ہوۓ ہیں انھیں منانا ہے

اس شعر میں عینی دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہتے ہیں کہ یہ دنیا غیر حقیقی ہے، یہاں دل لگانا نہیں ہے اصل مقام تو آخرت ہے جس کی فکر کرنی چاہیۓ ۔ رب کو منانا ہے کیوں کہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور مومن کا دائمی مقام صرف آخرت ہے اور آپﷺ اور اہل بیت اور صحابہ ہی ہمارے اپنے ہیں جو آخرت میں ہمسایہ کی طرح ہونگے۔

اگر ہے خواہش تحصیل منزل مقصود
تھکاوٹوں کا نشاں راہ سے ہٹانا ہے

اسی سے ملتی ہے تسکین دائمی ہم کو
لباس شرع کا گرچہ بہت پرانا ہے

انسان کو میں اپنی منزل مقصد تک پہنچنے کے لۓ ہمیشہ کو شش کرنی چاہے۔ جو تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے وہ منزل تک نہیں پہنچتا ۔

ہمارا سکوں ،ہماری خوشی اور ہماری آخرت سب کچھ یعنی ہماری زندگی کا اصل شریعت پر مبنی ہے ،شریعت ایک ایسا قانون ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنی زندگی کو حق کے راستے پر ڈال سکتے ہیں، آخرت کا سامان تیار کرسکتے ہیں، شریعت کا قانون پرانا ہی سہی، ہمارے لیے نجات کا سبب ہے۔ اس لیے شریعت پر چلنا ہمیں دائمی سکون عطا کرتا ہے ۔ شریعت پر عمل پیرا ہونے سے دونوں جہاں میں راہ نجات حاصل ہوتی ہے جس سے ہم آخرت کی منزلوں کو آسانی کے ساتھ طے کر سکتے ہیں۔ اس سے ہمیں نہ صرف دائمی سکون ملتا ہے بلکہ دائمی وجود بھی حاصل ہوتا ہے۔

عینی نے اپنے قلم کی مدد سے لوگوں کے دلوں میں عشق حقیقی کو جگایا ہے، لوگوں کو انسانیت کا درس دیا ہے اور انھیں آخرت کی یاد دہانی کروائ ہے۔ عینی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ انسانیت کا درس بھی لوگوں کو دیا ہے۔
اور ہم خادم رسول عینی کے بہت شکرگزار ہیں اور ہمیشہ رہینگے۔

دعا ہے ک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عینی پر ہمیشہ کرم فرماے تاکہ لوگ عینی کے توسل سے دنیا و آخرت میں فیض پاتے رہیں آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

سید شاہ مصطفیٰ علی سبز پوش علیہ الرحمہ خانقاہ رشیدیہ کے دینی افکار و خیالات کے مظہر۔از۔مفتی قاضی فضل رسول مصباحی

پریس ریليز (مہراج گنج)خانقاہ رشیدیہ ہندوستان کی قدیم روحانی اور عملی خانقاہ ہے ۔ یہاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے