Breaking News

اصلاح جلسہ.. ✒️ تلمیذ محدث کبیر خلیفہ حضور شیخ الاسلام و المسلمین و ارشد ملت مفتی عبدالرشید امجدی‌اشرفی دیناجپوری کھوچہ باری رام گنج اسلام پور بنگال خادم ۔۔ تنظیم پیغام سیرت مغربی بنگال 7030786828


تقریر و تحریر سے کوئی نتیجہ یا کامیابی حاصل نہیں ہو سکتا
تقریر و تحریر سے عوام الناس کی اصلاح نا ممکن ہے برسوں سے تقریر و تحریر سے اصلاح کی کوشش کی جا رہی ہیں لیکن کوئی اثر نہیں عوام اہلسنت کی اصلاح کیلئے زمینی سطح پر کام کرنا چاہیے
فی زمانہ عوام اہلسنت تقریر سننا پسند نہیں کرتے اور رہی بات تحریر کی تو تحریر علماء کرام کے مابین ہی رہتی ہے اور عوام الناس اُردو تحریر پڑھنے سے معذور ہیں لہذا کوئی ایسا طریقہ کار عمل میں لایا جائے جس سے عوام الناس کی اصلاح ہو اور بدعات و منکرات خرافات سے بچ سکے اگر سیمانچل اتر دیناجپور بنگال کا جائزہ لیا جائے تو دیگر صوبوں سے کہی زیادہ اہل علم علماء فضلاء حفاظ و فقہاء معلمین مدرسین محققین مفتیان دین اور مفسرین و محدثین ہیں لیکن اس کے باوجود بدعات و خرافات غیر شرعی رسومات میں عوام الناس پھنسے ہوئے ہیں علم و عمل سے کوسوں میل پیچھے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ پیغام سیرت کو عام کیا جائے اور زمینی سطح پر کام کیا جائے صرف اسٹیج پر رات رات چلانے سے کوئی فائدہ نہیں سوائے افسوس کہ فجر کی نماز میں سب غائب یہاں تک کہ بعض جگہوں پر دیکھا گیا کہ فجر کی اذان تک نہیں ہوتی دیر رات تک جلسے کی وجہ سے !
اس کے علمائے سیمانچل کو ایسا قدم اٹھانا ہوگا جس سے عوام الناس کی اصلاح ہو سکیں اہل سنت و الجماعت کے جلسوں میں انھیں مقررین و خطبا کو مدعوں کیا جائے جو صاحب علم ہونے کے ساتھ صاحب عمل بھی ہوں. اور مقامی مسلمانوں کی دینی ضرورت و حاجت کے مطابق تقریریں کریں اپنی تقریر و خطابت کے دوران نہ کوئی غیر مستند بات کہیں نہ کوئی غیر سنجیدہ اور نمائش طریقہ اختیار کریں….نماز عشاء کے بعد جلسے شروع کر دیۓ جائیں اور صلوۃ و سلام و دعا کے ساتھ بارہ بجے سے پہلے یہ جلسے ختم کر دئے جائیں…تقریر و خطابت کے لئے معتقدات و عبادات و معاملات میں سے کسی اہم گوشے کا اختیار کیا جائے.. فضائل و مسائل کے ساتھ مسلمانوں کے معاشرتی امور و معاملات کی طرف خصوصی توجہ دی جائے..مسلمانوں کو تعلیم و تجارت کی طرف مائل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے اور اس کا بہر حال انتظام کیا جائے کہ مقامی مسلمانوں سے تبادلۂ خیال کے بعد جن باتوں میں ان کی دینی رہنمائی کی ضرورت ہو ان کو ہی موضوع تقریر و خطابت بنایا جائے .. "دیر رات تک جلسے کے نتیجے” نماز فجر کی ادائگی خطرے میں پڑ جاتی ہے بلکہ یہ مشاہدہ کیا بارہا میں نے کہ جلسے کے اختتام پر سب کے سب غائب یہاں تک کہ خطیب صاحب بھی اسٹیج سے غائب اور پورے گاؤں والے سو گئے . اسکول کالج کے اساتذہ و طلبہ اور مختلف شعبوں اور دفاتر وغیرہ سے وابستہ افراد شریک جلسہ نہیں ہو پاتے رات بھر جاگنے کے نتیجے میں دوسرے روز یا تو سوئیں اور اپنا کام نہ کریں یا دن بھر اونگھتے ہوئے کوئ کام کریں جو غیر ذمہ داری کے ساتھ کام کے اندر ہونے والے نقص و خرابی اور غلطی کا پیش خیمہ ہے اس طرح کی مزید خرابیاں اور نقصانات ہیں اہل جلسہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا اس طرح کے جلسے اور تقریریں اصلاح طلب نہیں ؟

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

علماء کرام و ائمہ مساجد کی زبوں حالی کا زمہ دار کون؟تحریر، جمال اختر صدف گونڈوی

ایک وقت وہ بھی تھا جب اس ملک کا پہلا وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے