Breaking News

غزل۔۔۔۔۔۔از: سید خادم رسول عینی

کتنا ماحول خوش گوار رہا
میرے ہونٹوں پہ ذکر یار رہا

جس میں اخلاق بر قرار رہا
واسطے اس کے ہی قرار رہا

اس کی یادوں کے پھول ہیں دل میں
عمر بھر موسم بہار رہا

واسطے حق کے لکھ رہا تھا شعر
میں سدا ایسا خوش شعار رہا

انس ہے مجھ کو اس سے کچھ ایسا
دل مرا اس پہ ہی نثار رہا

پھر بھی وہ بے وفا نہیں بدلا
میں ہمیشہ وفا شعار رہا

باغ کے گل ہیں کیوں نظر انداز
ذہن میں تیرے صرف خار رہا؟

کس قدر خوش نصیب ہوں” عینی "
ناعتوں میں مرا شمار رہا
‌۔۔
از: سید خادم رسول عینی

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

غزل۔۔جو حق ھے اس کو جہاں میں دکھا کے دم لینگے،،از: سید خادم رسول عینی

جو حق ھے اس کو جہاں میں دکھا کے دم لینگےحدیث سرور دیں کی سنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے