Breaking News

مرا دل روز کہتا ہے در غوث الوری چلیے.. از قلم.. محمد شعیب اختر قادری دھرم سنگھوا یوپی 7565094875

نبی سے ربط جڑتا ہے در غوث الوری چلیے
علی کا فیض ملتا ہے در غوث الوری چلیے

وہیں سے مل رہی ہے کامرانی دونوں عالم کی
وہی در مصطفیٰ کا ہے در غوث الوری چلیے

ارادے روز ہوتے ہیں اجازت مل نہیں پاتی
مرا دل روز کہتا ہے در غوث الوری چلیے

وہیں پر عاشقوں کو عشق کا بادہ پلاتے ہیں
دل بسمل تڑپتا ہے در غوث الوری چلیے

عقیدے کے مریضوں کو شفاء ملتی ہے اس در سے
خدا ایمان دیتا ہے در غوث الوری چلیے

وہ زندہ کر دیا کرتے ہیں اک ٹھوکر سے مردوں کو
تمہارا دل بھی مرتا ہے در غوث الوری چلیے

اسی دربار کی خیرات بٹتی ہے زمانے میں
وہاں ہر کوئی پلتا ہے در غوث الوری چلیے

وہاں ابدال پھرتا ہے وہیں اوتال رہتا ہے
وہاں اقطاب بنتا ہے در غوث الوری چلیے

نہیں آؤں گا میں اختر کبھی بغداد سے واپس
کوئی کانوں میں کہتا ہے در غوث الوری چلیے

از قلم.. محمد شعیب اختر قادری دھرم سنگھوا یوپی 7565094875

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

اردو۔۔۔۔۔۔۔از: سید خادم رسول عینی

آنکھ اردو کی کتنی پیاری ہےشاعری اس پہ ہم نے واری ہے اپنے اسلاف کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے