Breaking News

انگریزی نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا؟؟ از قلم احمد رضا قادری منظری مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر درگاہ روڈ بہراٸچ شریف

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے مین کہ ۱ جنوری نیا سال کا مبارک باد کہنا اور منانا کیسا ہے
👇☝🏻
الجواب بعون الملک الوھاب۔۔ اسلامی نئے سال کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو چھ حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب اسے خوشی پہنچے تو اسے مبارک باد دے۔
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے الاوسط میں درج کیا‘ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:
كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.
(الطبراني، الأوسط: 6241)
نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔
البتہ انگریزی سال کی مبارک باد دینا بہتر نہیں کہ پہلی جنوری کو happy new year کہنا یہودو نصاری وغیرہ کا طریقہ ہے اس لٸے احتراز کرنا چاہٸے ۔حدیث شریف میں ہے ۔من تشبہ بقوم فہو منھم“ اھ (ابوداٶد ص٥٥٩)واللہ تعالی اعلم ۔
کتبہ ۔احمدر رضا قادری منظری ۔مدرس ۔المرکزالاسلامی دارالفکر۔بہراٸچ شریف۔ ۔۔۔1.1.19.

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

جب اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ لفظ کن سے ہر چیز کر سکتا ہے تو پھر فرشتوں کو کیوں لگایا؟؟ از قلم احمد رضا قادری منظری مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر درگاہ روڈ بہراٸچ شریف

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے مسئلہ ذیل میں کہ جب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے