Breaking News

حضرت على رضي الله عنه كعبه شريف ميں ،پیدا ہوئے کیا یہ روایت صحیح ہے؟؟؟ از قلم احمد رضا قادری منظری مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر درگاہ روڈ بہراٸچ شریف

اسلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماءےکرام ومفتیان اہلسنت کسی نے ہم سے سوال کیا کہ حضرت على رضي الله عنه كعبه شريف مين ،پیدا ہوئے مجھے دلیل چاہئے کس کتاب میں لکھا ہے قران وحديث کی روشنی میں جواب عنایت فرماءے نوازش ہوگی

خادم مدرسه اشفاق احمد صابري بهراءچ
👇☝🏻
الجواب بعون الملک الوھاب۔امام حاکم اپنی مشہور حدیث کی کتاب المستدرک للحاکم میں فرماتے ہیں۔
فقد توارت الاخبار ان فاطمه بنت اسد ولدت امير المومنين علی ابن ابی طالب کرم الله وجهه فی جوف الکعبه.
(المستدرک للحاکم، ج : 3، ص : 484)
فرماتے ہیں اس بارے میں متواتر احادیث موجود ہیں کہ فاطمہ بنت اسد نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو کعبہ شریف کے اندر جنی تھیں۔
شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”واز مناقب علي رضی اللہ عنہ کہ در حین ولادت او ظاہر شد یکی آن است کہ در جوف کعبہ معظمہ تولد یافت․ قال الحاکم في ترجمة حکیم بن حزام قول مصعب؛ فیہ: ”ولم یولد قبلہ ولا بعدہ في الکعبة أحد“ مانصہ: ”وھم مصعب في الحرف الأخیر، فقد تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمیر الموٴمنین علي بن أبي طالب کرم اللہ وجہہ في جوف الکعبة“․(ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء: ۶/۳۵۹) واللہ تعالی اعلم ۔کتبہ۔احمد رضا قادری منظری ۔مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر بہراٸچ شریف۔31/12/2018

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

جب اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ لفظ کن سے ہر چیز کر سکتا ہے تو پھر فرشتوں کو کیوں لگایا؟؟ از قلم احمد رضا قادری منظری مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر درگاہ روڈ بہراٸچ شریف

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے مسئلہ ذیل میں کہ جب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے