Breaking News

تہجد کی نماز رات کو کتنے بجے ادا کی جائے اور نیت کیسے کریں اور کتنی رکعت ہوتی ہے؟؟ از قلم احمد رضا قادری منظری مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر درگاہ روڈ بہراٸچ شریف

السلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ تہجد کی نماز رات کو کتنے بجے ادا کی جائے اور نیت کیسے کریں اور کتنی رکعت ہوتی ہے تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی؟
المستفتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد شیر علی قادری
👇☝🏻
الجواب بعون الملک الوھاب۔عشاء کے فرض پڑھ کر آدمی سورہے پھر اس وقت سے صبح صادق کے قریب جس وقت آنکھ کھلے دورکعت نفل صبح طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لے تہجد ہوگیا (وقت فجرسے پہلے)اقل درجہ تہجدکایہ ہے اور سنت سے آٹھ رکعت مروی ہے اور مشائخ کرام سے بارہ اور حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ دوہی رکعت پڑھتے اور ان میں قرآن عظیم ختم کرتے، غرض اس میں کمی بیشی کااختیارہے اتنی اختیار کرے جو ہمیشہ نبھ سکیں اگرچہ دوہی رکعت ہو کہ حدیث صحیح میں فرمایا:احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل۱؎۔اﷲ تعالٰی کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے کہ ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑاہو۔
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح باب القصد فی العمل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ص۱۱۰)
قرأت کابھی اختیار ہے چاہے ہررکعت میں تین تین بارسورئہ اخلاص پڑھے کہ اس کا ثواب ایک ختم قرآن کے برابرہے خواہ یوں کہ بارہ رکعتیں ہوں پہلی میں ایک بار، دوسری میں دوبار، یاپہلی میں بارہ دوسری میں گیارہ، اخیرمیں ایک کہ یوں ۲۶ختم قرآن کاثواب ہوگا، اور پہلی صورت میں بیس کا ہوتا۔ اوربہتر یہ ہے کہ جتنا قرآن مجید یادہواس نماز میں پڑھ لیاکرے کہ اس کے یادرہنے کا اس سے بہتر سبب نہیں۔ تہجد پڑھنے والا جسے اپنے اُٹھنے پراطمینان ہو اسے افضل یہ ہے کہ وتر بعد تہجد پڑھے پھر وتر کے بعد نفل نہ پڑھے جتنے نوافل پڑھناہوں وترسے پہلے پڑھ لے کہ وہ سب قیام اللیل میں داخل ہوں گے اور اگرسونے کے بعد ہیں توتہجد میں داخل ہوں گے۔اھ (۔فتاوی رضویہ ج سوم ص ٤٧١ ۔)واللہ تعالی اعلم۔کتبہ ۔احمدرضا قادری منظری۔مدرس۔المرکزالاسلامی دارالفکر۔بہراٸچ شریف۔١٢۔١۔١٩۔

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

جب اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ لفظ کن سے ہر چیز کر سکتا ہے تو پھر فرشتوں کو کیوں لگایا؟؟ از قلم احمد رضا قادری منظری مدرس المرکزالاسلامی دارالفکر درگاہ روڈ بہراٸچ شریف

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے مسئلہ ذیل میں کہ جب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے