Breaking News

حجاب چھوڑئیے صاحب! یہاں تو پستان چھپانا بھی جرم عظیم تھا۔{موج فکر}از✍️آصف جمیل امجدی [انٹیاتھوک،گونڈہ

آر یس یس کے زہریلے خمیر سے نکلے والی بی جے پی اپنی شرم ناک حرکتوں کے ذریعہ جب زمام حکومت سنبھالی تھی، اسی وقت ظاہر ہو چکا تھا کہ ہندو مسلم میں نفرتوں کی آبیاری کرنے والی یہ پارٹی مذہبی عداوتوں کی فصل اک دن ضرور کاٹے گی۔ لیکن وہ اس میں اتنی جلد بازی کرے گی اس کا اندازہ ہرگز نہیں تھا۔ مذہب و شریعت میں دخل اندازی کرکے مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کر رکھی ہے۔ شب و روز بے چینی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دی ہے۔ خصوصی طور پر جب اسمبلی انتخابات قریب آتا ہے تو ہندو مسلم کے مابین نفرت کی کوئی نا کوئی بیج ضرور ڈالی جاتی ہے۔ زعفرانی پلے (पिल्ले) ابھی حالیہ اسلامی قانون حجاب کے خلاف واویلا مچاۓ ہوۓ تھے۔ جس پر میری قوم کی غیرت مند ننھی شہزادی "مسکان خان "نے اپنی ہمت و بہادری کا جوہر دکھاتے ہوۓ زعفرانی گیدڑ بھبکیوں کو آن واحد میں ان کی اوقات یاد دلا دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان آتنکیوں کے خانۂ فکر میں مسلسل بھونچال برپا ہے۔ 2022؁ء کا حجابی سانحہ تاریخ ہند میں جلی حرفوں سے رقم کردیا گیا ہے۔ تاکہ نسل نو یہ جان سکے کہ ظالم حکمراں نے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کیسا جانب رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ کاش آر یس یس کے زہریلے زعفرانی خمیر اسلام پر شب خوں مارنے کی بجائے تاریخ ہند کا مطالعہ کئے ہوتے تو شاید دانتوں تلے انگلی داب لیتے اور ایسی نازیبا حرکتوں سے آئین ہند کو داغ دار نہ کرتے۔ 1729؁ء کی بات ہے کہ بھارت کے نقشے میں ٹراونکوڑ کی سرزمین پر دل سوز آنکھوں کو نمناک کر دینے والا درد ناک ناقابل بیان سانحہ تاریخ ہند میں بادشاہ وقت مرتھنڈ ورما کے دور حکومت میں ملتا ہے۔ کہ بادشاہ مرتھنڈ ورما زمام حکومت کے ساتھ تخت شاہی پر بیٹھتے ہی قدیم بادشاہوں کی ریت رواج کے مطابق اپنا حکم نامہ نافذ کرتا ہے۔ کہ فلاں فلاں اشیاء پر آپ لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا فہرست ضوابط میں ایک ایسے ٹیکس کا ذکر تھا جسے انسانی کان کبھی سنا تھا اور نہ ہی ذہن انسانی نے اسے بھول کر بھی کبھی سوچا ہوگا۔ "پستان ٹیکس/ بریسٹ ٹیکس” کے حوالے سے قانون لکھا ہوا تھا ، جو نچلی قوم (دلت، او بی سی وغیرہ وغیرہ) کی خواتین پر خصوصی نافذ کیا گیا تھا۔ کہ ان کے لیے اپنا پستان چھپانا سب سے بڑا جرم ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس (تاوان) دینا ہوگا۔ ظلم کی انتہا اسی پر بس نہ ہوئی بل کہ بادشاہ کا حکم نامہ رعایا کو سنایا گیا کہ میری حدود سلطنت میں رہنے والے مرد و عورت کو حیات مستعار گزارنے کےلیے بادشاہ کےقانون پرعمل پیرا ہونا لازم و ضروری ہوگا۔(نچلی قوم اسلامی حکمرانوں کے علاوہ بل کہ ہر دور حکمرانی میں کچلی گئیں ذلیل و رسوا کی گئیں) ظالم بادشاہ مرتھنڈ ورما کا خود ساختہ گھناؤنا قانون یہ تھا کہ نچلی ذات کی خواتین خالص کمر سے لےکر پیر تک کے اعضاء کو چھپا سکتی ہیں۔ پستان کو چھپانے کی انہیں قطعی کوئی اجازت نہیں ہے۔ اسی کھلے سینےکے ساتھ ضرورت پڑنے پر خواتین کوٹ کچہری کا چکر بھی لگاتی تھیں۔ عظیم عہدے دار اور اعلیٰ افسران کی آمد پر عورتوں کو اپنا پستان کھول کر بات کرنی پڑتی تھی‌۔ اس قانون سے باہر نکل کر زندگی گزارنے کا گویا تصور ہی مفقود ہو چکا تھا، کیوں کہ بادشاہ کے ڈر سے عام صورت حال میں بھی اسی طرح عورتیں رہنے لگی تھیں۔ شرم و حیا اس وقت دم بخود ہوکر رہ گئی جب کوئی خاتون غیرت کے مارے اپنا کھلا پستان چھپاتی اور وہ بڑا ہوتا تو اس جرم میں زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ اور اگر پستان چھوٹا ہوتا تو ٹیکس کم دینا پڑتا۔(یہ بادشاہ وقت کا فرمان تھا کہ جس کا پستان بڑا ہوگا اس کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا، باقاعدہ پستان کو ناپا جاتا تھا) ٹیکس افسران (Tex officer)کی ٹیم بلاناغہ ہر ہفتے ناڈر (nadar) و ایزوا (ezhava) قوم کے پاس ٹیکس لینے آتی تھی۔ ٹیکس کو کیلے کے پتے پر رکھ کر دینا ہوتا تھا۔ آخر بادشاہ مرتھنڈا ورما کا یہ ظالمانہ کالا قانون کب تک چلتا ایک نہ ایک دن تو بھسم ہونا ہی تھا 1803؁ء میں ایزوا (ezhava) ذات(ایزوا نیچے ذات کو کہتے ہیں ) میں نانگیلی نامی ایک بہادر خاتون کی تاریخی سوانح حیات ملتی ہے کہ اس خاتون نے تنے تنہا نہایت ڈھٹائی سے بادشاہ وقت کے غلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ نانگیلی اپنے پستان کو ڈھک کر چلنے لگی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اب میں اسی طرح رہوں گی اور بریسٹ ٹیکس بھی نہیں دوں گی ۔سماج میں یہ بات بڑی تیزی سے پھیلنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لمحوں میں یہ بات ٹراونڈ راجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ راجہ یہ سن کر آگ بگولہ ہوجاتا ہے کہ کون ہے میری رعایا میں جس کی اتنی بڑی جرأت ہوئی کہ وہ میرے فرمان کے خلاف من مانی کرنے لگی۔ اور فورا ٹیکس اصولی کرنے والے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے ہدایت کرتا ہے کہ جاؤ اور اس سے ہر حال میں ٹیکس لے کر آؤ۔ دوپہر کے وقت ٹیکس افسران ٹراونکوڑ میں نانگیلی کے گھر پہنتے ہیں اور ٹیکس کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن نانگیلی اور ان کے شوہر چرکنڈن دونوں با یک زبان ٹیکس دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ لہذا افسران اور نانگیلی کے بیچ کافی بحث و مباحثہ ہوتا ہے اور نانگیلی کو نچلی ذات ہونے کی وجہ سے افسران نے بہت ٹارچر بھی کیا۔ بلآخر یہ کہہ کر کہ "لا رہی ہوں ٹیکس” نانگیلی گھر کے اندر جاتی ہے اور پھر اپنا "ایک پستان کاٹ کر کیلے کے پتے پر رکھ کر افسران کے سامنے پیش کردیتی”۔ یہ دیکھ کر موجودہ افسران کے ساتھ ٹراونکوڑ کی جنتا حواس باختہ ہوجاتی ہے۔ اور نانگیلی کے جسم سے برابر خون جاری تھا جس سے موقع پر اس کی موت ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ٹراونکوڑ کے راجہ مرتھنڈ ورما پر جگہ جگہ سے بہت پریشر پڑتا ہے کہ بریسٹ ٹیکس کو ہٹایا جاۓ۔ احتجاج اتنا شدیدتھا کہ بادشاہ کےکنٹرول سے باہر ہو چکا تھا۔ لہذا بادشاہ کو اعلان کرنا پڑا کہ آج سے ایزوا ذات کی خواتین سے بریسٹ ٹیکس ہٹایا جارہا ہے اور اب وہ اپنے بدن کو ڈھک کر رہ سکتی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ 1729؁ء میں مرتھنڈ ورما راجہ نے یہ بریسٹ ٹیکس جیسا کالا قانون لگایا تھا جو کہ 1803؁ء تک چلا۔ اور نانگیلی کی بے مثال قربانی کی وجہ سے ایزوا ذات کی خواتین کو 1803؁ء میں بریسٹ ٹیکس دینے سے نجات ملی۔ اور انہیں پستان ڈھک کر چلنے کی اجازت دے دی گئی۔(آج بھی نانگیلی کی پوجا ٹراونکوڑ میں کی جاتی ہے۔) لیکن ٹراونکوڑ میں ابھی نادر (nadar) کمیونٹی کی خواتین سے بریسٹ ٹیکس کا قانون ہٹایا نہیں گیا تھا۔ ناڈر قوم کی تاریخ بھی بہت تاریک تھی (اختصار سے پیش کر رہاہوں) ناڈرکمیونٹی نے جب دیکھا کہ ایزوا کمیونٹی سے بریسٹ ٹیکس کو ہٹالیا گیا۔ تو پوری ناڈرکمیونٹی نے اپنے حق کے لیے اس کالے قانون کے خلاف ایسا احتجاج کیا جو ایک تاریخی احتجاج بن گیا اور یہ کئی دن تک لگاتار چلتا رہا۔ 1859؁ء میں برٹش حکومت اور ٹراونکوڑ کے راجہ کے بیچ نادر قوم کے احتجاج کو لے کر کافی بات چیت ہوئی۔ اس وقت مدراس کے گورنر "چارلس ٹویلئن” (Charles trevelyan) تھے آپ نے ورتھنڈ ورما پر کافی پریشر ڈالا تو بادشاہ نے ناڈرکمیونٹی سے بھی بریسٹ ٹیکس کو ہٹایا پھر بھی خفیہ طور پر ٹیکس لیا جاتا رہا۔ 1924؁ء میں جب آزادئ ہند کی لڑائی پورے چرم سیما پر تھی تب اس وقت اس کالے قانون (بریسٹ ٹیکس) سے نجات ملی تھی۔

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

نیا سال گناہوں کا اانبار..تحریر: محمد مقصود عالم قادری اتر دیناجپور مغربی بنگال

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیسے ہی پہلے مہینے کی پہلی تاریخ آتی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے