Breaking News

شادیوں کو خرافات سے پاک کرکے مجالس خیر کا اہتمام کریں:پیرسیّدنوراللّٰہ شاہ بخاری_______________________________۲۵ فروری ۲۰۲۲ عیسوی بروز جمعہ

حضرت مولانا مبارک حسین قاری اشفاقی کونرا،چوہٹن،باڑمیر کے دولتکدہ پر ان کے برادران کی شادی خانہ آبادی کے موقع پر ایک دینی و اصلاحی پروگرام ہوا-جس میں راجستھان کی ممتاز دینی درسگاہ "دارالعلوم انوارمصطفیٰ "کے مہتمم وشیخ الحدیث نورالعلماء شیخ طریقت حضرت علامہ الحاج سید نوراللہ شاہ بخاری سجادہ نشین: خانقاہ عالیہ بخاریہ سہلاؤشریف نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ "اسلام میں شادی یعنی نکاح بہت آسان اور کم خرچ عمل تھا۔لیکن جہاں آج ہم زندگی کے ہر شعبے میں زوال کا شکار ہوئے، وہیں عیش پرستی بھی ہمارے اندر گھر کرتی گئی۔ ہم نے اپنے ہر عمل کو دکھاوا بنا لیا ہے۔ اسلام جس نے ذات، برادری، حسب و نسب،اعلیٰ و ادنیٰ کے فرق کو ختم کرکے دنیا کو ایک ایسا طرزِ حیات دیا تھا، جس نے معاشرے میں اونچ نیچ کو ختم کر کے مساوات کو فروغ دیا تھا۔پھر ہمارے اسلاف کے عمل نے ایسا تاثر قائم کیا کہ غیر مذاہب کے لوگ، خواہ ایمان نہ لاتے ہوں،مگر اسلام کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے۔پہلے مسلمان، ایمانداری، دیانت داری، ضمانت، شرافت کا نمونہ ہوا کرتا تھا۔ لوگ آنکھ موند کر یقین کر لیا کرتے تھے۔۔ مساوات کا جو سبق اسلام نے دنیاکو دیا تھا، وہ بے مثل تھا۔ جس کا عملی نمونہ جب مسلمانوں میں عام ہوا تو ساری دنیا نے اسلام کے طرز حیات کو تسلیم کیا۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز شادی بیاہ کی سادگی بھی دنیا کے لیے مثال تھی۔لیکن اِدھر مسلم معاشرے کو لا مذہبیت، فیشن پرستی، ریاکاری، فضول خرچی، عیش و عشرت نے دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر بالکل کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہمارے اعمال نے ہماری شناخت، ماضی کے برعکس، بے ایمان، غاصب، بدزبان، لڑاکو کے طور پر کرادی ہے۔ شادی بیاہ کا معاملہ تو اس قدر غلط راہ پر چل پڑا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ پھر سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ ہم غلط کو بھی صحیح سمجھ رہے ہیں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں اُسے اچھا جانتے ہیں۔موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجودشادی بیاہ و دیگر تقریبات کے موقعے پر انتہائی اسراف اور فضول خرچی سے کام لیا جارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں معاشرے میں موجود افراد کی ایک کثیر تعداد کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خصوصًا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لیے یہ رسومات دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ شادی بیاہ کا مروجہ نظام غریب لوگوں کی شادی میں ایک رکاوٹ بن چکا ہے،جسے ختم کرنا ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ان رسومات کی وجہ سے جتنے بھی لوگ متاثر ہونگے ان کا وبال رسم و رواج پر عمل کرنے والوں پر بھی ہوگا۔ان رسموں میں کس قدر مال خرچ کیا جاتا ہے جب کہ قرآنِ کریم میں اسراف وتبذیر کی صراحۃً ممانعت وارد ہے ۔ ارشادِ خداوندی ہے : ﴿وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا  اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ  وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّه کَفُوْرًا﴾ ( بنی اسرائیل : ۲۶-۲۷ ) اور ( اپنے مال کو فضول اور بے موقع ) مت اُڑاؤ ، یقیناً بے جا اُڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے ۔ اِسی بنا پر حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : "إِنَّ أَعْظَمَ النِّکَاحِ بَرَکَةً أَیْسَرُه مَؤنَةً”. ( مشکوٰة شریف ۲ ؍ ۲۶۸ ) یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم مشقت (کم خرچہ اور تکلف نہ) ہو ۔ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُس نکاح کو برکت والا قرار دیا جس میں فریقین کا خرچ کم ہو چنانچہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بڑی برکت والا وہ نکاح ہے جس میں بوجھ کم ہو۔ (مسند احمد، ج9،ص365، حدیث:24583) حکیم الامّت مفتی احمد یار خان علیہ الرّحمہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے، مہر بھی معمولی ہو، جہیز بھاری نہ ہو، جانبین میں سے کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو، ﷲ (عَزَّوَجَلَّ) کے تَوَکُّل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے ایسی شادی خانہ آبادی ہے، آج ہم حرام رسموں، بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بلکہ خانہا (یعنی بہت سارے گھروں کے لئے باعثِ) بربادی بنالیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی اس حدیثِ پاک پر عمل کی توفیق دے۔(مرأۃ المناجیح، ج5،ص11) اگر ”کُل جہاں کے مالک“ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شہزادی حضرت سیّدتنا فاطمہ زَہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مبارک نکاح اور دیگر صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی شادیوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ شادی کرنا آسان ہے کیونکہ ہمارے لئے رہبر و رہنما یہی ہستیاں ہیں جن کی اتباع دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ یاد رکھئے! شادی کے لئے شریعت نے نہ تو کسی شادی ہال کو لازم قرار دیا ہے اور نہ ہی نمود و نمائش، آتش بازی اور فضول خرچیوں کو شادی کا حصہ قرار دیا ہےبلکہ ان میں سے بعض صورتیں تو ناجائز وحرام ہیں۔جب شریعت کا حکم اسراف وتبذیر سے بچنے کا اور نکاح کو آسان بنانے کا ہے ، تو ہمارے یہاں نکاح کی تقریبات جن میں کھل کر فضول خرچیاں ہوتی ہیں اور احکامِ شریعت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں ، اُن سے ہمارے اور آپ کے آقا نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی خوشی کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟ اور جس تقریب سے اللہ اور رسول راضی نہ ہوں ، تو اگر اس سے پوری دنیا بھی خوش ہوجائے ، اس تقریب میں برکت نہیں آسکتی ، اس کے برخلاف جس تقریب سے اللہ اور اس کے پیغمبر خوش ہوں تو وہی بابرکت ہوگی اگرچہ پوری دنیا ناراض ہوجائے۔اس لیے ہمیں چاہییے کہ ہم اپنی شادیوں کو بے جا وغیر شرعی رسومات بالخصوص ناچ گانے سے پاک کر کے ایسے مواقع پر مجالس خیر کا انعقاد کیا کریں جیسے مولانا مبارک حسین صاحب قادری اور ان کے اہل خانہ نے کیا ہے تاکہ ان مجالس کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح ہو اور ویسے بھی ایسے مجالس جن میں اللہ ورسول کا ذکر کیا جائے، ذکر واذکار اور درود شریف پڑھاجائے وہ باعث خیر وبرکت ہوا کرتےہیں-مولانا مبارک صاحب نے یہ ایک اچھی پہل کی ہے کیونکہ جو کوئی بھی کسی نیک کام کی شروعات کرکے اسے رواج بخشنے کی کوشش کرے، اس کو دیکھ کر اگر دوسرے لوگ بھی اس نیک کام کو کرنے لگیں تو اس نیک کا م کے کرنے والے کو جس طرح ثواب ملے گا اسی طرح اس کو رواج بخشنے والے کو بھی ،اسی طرح اگر کوئی کسی برائی کو عام کرے تو اس برائی پر عمل کرنے والا تو گنہگارہو گا ہی اس کے ساتھ اس برائی کو عام اور رواج دینے والا بھی گناہوں کامستحق ہوگا-اس لیے ہم سبھی لوگوں کو چاہییے کہ اگر ہم سے نیکی کے کام نہ ہوسکیں تو کم از کم کسی برائی یا بری رسم کی تو شروعات نہ کریں”-اس دینی ومذہبی پروگرام میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا مبارک حسین صاحب قادری نے بھی لوگوں کو یہی پیغام دیا کہ "ہم سبھی لوگوں کو چاہییے کہ شادی بیاہ کے مواقع پر ہمارے معاشرے میں جو خرافات در آئے ہیں ان سے حتی الامکان پرہیز کریں”اس پروگرام میں خصوصیت کے ساتھ مداح رسول حافظ روشن صاحب قادری میٹھے کا تلا نے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کیے-جب کہ اس دینی ومذہبی پروگرام میں خصوصیت کے ساتھ یہ حضرات شریک ہوئے-حضرت مولانا غلام رسول قادری خطیب وامام:جامع مسجد ایٹادہ،حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب خطیب وامام جامع مسجد کونرا،حضرت مولانادلاور حسین قادری صدرالمدرسین:دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف،حضرت حافظ وقاری کبیر احمدسکندری صدرالمدسین:مدرسہ فیضان حذب اللہ شاہ لاٹھی،جیسلمیر،مولانا محمدشاکر صاحب سہروردی اشفاقی ،قاری محمّد شریف اشفاقی کونرا،مولانادوست محمداشفاقی ایٹادہ، قاری ارباب علی قادری انواری وغیرہم-صلوٰة وسلام اور قبلہ پیرسیدنوراللہ شاہ بخاری کی دعا پر یہ مجلس خیر اختتام پزیر ہوئی-

رپورٹر:محمدعرس سکندری انواری متعلم درجۂ فضیلت:دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف، پوسٹ:گرڈیا، ضلع:باڑمیر(راجستھان)

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

جسٹس شری کرشنا کا بیان قابل غور و فکر.. ازقلم : محمد علاؤالدین قادری رضوی ثنائی صدرافتا: محکمہ شرعیہ سنی دارالافتاء والقضاء میراروڈ ممبئی

کسی بھی جمہوری ملک کی جمہوریت کی بقا عدالتی فیصلے پر منحصر ہے ، داخلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے