Breaking News

ماہ رمضان کی آن بان شان، رحمتوں کی باران۔آصف جمیل امجدی [انٹیاتھوک،گونڈہ]

اللہ کریم کے خزانۂ رحمت کے بیش بہا خزانے کا نام ‘رمضان کریم’ ہے۔ اس ماہ مقدس کا اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ سایہ فگن ہوتے ہی مومن بندے اور بندیوں کے چہرے مسرت و شادمانی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں کم عبادت کرنے پر بھی ڈھیروں ثواب ملتا ہے۔ پنج وقتہ نماز میں تراویح کی اضافہ ذات کے ساتھ ثواب بھی بکثرت عطا ہوتا ہے۔ اس میں اور دنوں کے بالمقابل عبادت کا ذوق و شوق مزید بڑھ جاتا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا لطف نہایت نرالا ہو جاتا ہے۔ اس ماہ کا ہر کام نظام الاوقات کے عین مطابق ہونے لگتا ہے۔ افطاری کرنے کا ایک سنہرا نظم ہوتا ہے کہ اذان مغرب سے قبل مختلف النوع لذیذ پکوان سے پہلے دسترخوان کو سجا کر گھر کے چھوٹے بڑےسبھی افراد ایک ساتھ بارگاہ صمدیت مآب عزوجل میں دست بدعا ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی بھلائی و بہتری مغفرت و بخشش کے لیے دعاکرتے ہیں۔ اذان مغرب سنتے ہی ایک دوسرے کا پاس و لحاظ کرتے ہوۓ بادب افطاری کرتے ہیں۔ اور سحری کا ضابطہ بھی بڑا حسین ہوتا ہے۔ گویا ہر کام معمول کے مطابق ہوتا ہے۔ صحت و سلامتی سے بھری ہوئی زندگی ہوتی ہے۔ جہاں نوع بنوع پر مغز شفاف صحت بخش غذا کھانے کو ملتی ہے، وہیں گناہ صغیرہ و کبیرہ سے بچے رہنے کے لیے روزہ جیسی عظیم نعمت رہتی ہے۔ اگر ماہ صیام میں نازل ہونے والی باران رحمت و بخشش کا انکشاف کردیا جاۓ تو بغیر روزے کے رہنا در کنار، لوگ تمنا کریں گے کہ کاش مجھے کبھی موت نہ آئے اور یوں ہی ماہ صیام کی سوغات لوٹتے رہیں۔ اس میں ثواب کا خزانہ ہے، روزہ دار کا سانس لینا بھی ثواب، دیکھنا بھی ثواب، بولنا بھی ثواب، سننا بھی ثواب، سونا بھی ثواب، جاگنا بھی ثواب، چلنا پھرنا بھی ثواب نیز نماز، صدقات، فطرات، عطیات، زکات، افطار کرنا و کرانا ثواب گویا اس کے ہر آن ہر لمحہ ہر ساعت میں ثواب ہی ثواب ہے اور یہی حصول رضاۓ الہی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئیے کہ اس ماہ کی تعظیم و تکریم بجالاۓ۔ احکام خدا وندی کو اپنا سرمایۂ حیات (مستعار) سمجھے۔ اسی میں دونوں جہاں کی بھلائی مضمر ہے۔ یہ کیسے زیبا دے سکتا ہے ایک مسلمان کو کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہے (کہلاۓ) اور ماہ رمضان میں (کھلم کھلا) سر عام اسلام کی توہین و بے حرمتی کرتا ہوا پھرے۔ لیکن دور حاضر کے مسلمان کو اس کیفیت میں بکثرت دیکھا جا سکتا ہے۔ واللہ اگر تم اپنی اس نازیبا حرکتوں سے باز نہ آۓ تو غضب الٰہی کے مستحق ہوگے اور پھر تمہارا ٹھکانہ نار جہنم ہوگا۔ جو قطعی اسے مومن کے لیے نہیں بنایا گیا۔ بل کہ نعیم جنت تمہاری خاطر کب سے اپنی باہیں پھیلائے ہوئے ہے۔ تو اے لوگو! ابھی وقت ہے اپنی سابقہ غلط روش سے منازل کا بعد مت بڑھاؤ۔ بل کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رضا جوئی کا سامان مہیا کرو، اور وہ بایں وقت سایہ فگن یہی ماہ مقدس رمضان کریم ہے اس کا احترام کرکے اپنی جہاں آباد کرلو۔ اس کی سوغات کو سوہان جان سمجھو۔ اور مکمل انہماک شوق و ذوق کے ساتھ عبادت و ریاضت میں لگ جاؤ۔ یہ رمضان کریم ہے اس کی شان بڑی عظیم ہے، اس کی آن بڑی لطیف ہے، اس کی بان بڑی نرالی ہے۔ گویا اس کی آن بان شان مسلمانوں کے لیے سفینۂ بخشش ہے۔ تو اس سفینے کو نیکیوں کے ذریعہ نہایت مستحکم بناؤ ناکہ آلۂ معصیت سے اس میں سوراخ بناؤ۔

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

خوف خدا: اللہ کے قرب کا ایک اہم ذریعہ.. ازقلم:مولاناخیرمحمدقادری انواری مدرس:دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤ شریف،گرڈیا،ضلع:باڑمیر (راجستھان)

تقویٰ و خوف ِالٰہی کی خوبی انسان کو اللہ رب العزت کے بہت زیادہ قریب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے