Breaking News

نظم_•°ماں°•_✍️آصف جمیل امجدی انٹینا تھوک، گونڈہ

مجھے معلوم ہی کیا تھا
میں جب مسکراتا تھا تو تو
دکھ اپنا،بھول جاتی تھی
میرا فدکنا آنگن میں
تجھے
خوب بھاتا تھا

مجھے معلوم ہی کیا تھا
مجھے جو جان سے اپنی،
زیادہ
پیار کرتی تھی
میری ضد میری خواہش پر
سبھی قربان کرتی تھی

مجھے معلوم ہی کیا تھا
کہ بچپن میں میں روتا رہتا تھا
تو تو
بے چین ہو جاتی تھی
میری خاطر
مجھ کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا کر پیار کرتی تھی
میری ماں
مجھے بے حد پیار کرتی تھی
مجھے مسکراتا دیکھ کر
دکھ اپنا بھول جاتی تھی

مجھے معلوم ہی کیا تھا
کہ اس کی چوڑیاں
جب ہاتھ میں آنے لگیں میرے
ہاں!
اس کی زلفیں
بھی
جب ہاتھ میں آنے لگیں میرے
تو میں
اسی میں مدہوش
بہلا پھسلا رہتا تھا
جب وہ اک رہنما کی طرح باتیں سننے اور راہ دکھلانے لگی
تو فلک سے
اچانک
فیصلہ کچھ اور آیا
سہارا ٹوٹ گیا
مجھے تنہا سفر پر
زندگی کے چھوڑ گئ
میں اپنا حال دل کس کو سناؤ
کس کے کاندھے پر رکھوں سر کو
میں رونا چاہتا ہوں
ماں کے مجھ سے روٹھ جانے پر
میں رونا چاہتا ہوں
آج اپنی بے بسی پر
بے مروت اس مقدر پر
ہاں!
میں رونا چاہتا ہوں
اور
خوب
رونا چاہتا ہوں

نتیجۂ فکر
✍️آصف جمیل امجدی
انٹینا تھوک، گونڈہ

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔از: سید خادم رسول عینی قدوسی ارشدی

زمانے میں لےکر بہار آرہے ہیںوہ دینے سبھی کو قرار آرہے ہیں سفر کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے