Breaking News

سچائی کواپنائیں اور جھوٹ سے پرہیز کریں، از:(مولانا)محمّدشمیم احمدنوری مصباحیناظم تعلیمات:دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف،باڑمیر(راجستھان)[email protected]

اللہ وحدہٗ لاشریک کا کا بےپناہ کرم و احسان ہے کہ اس نے دنیا میں صدق یعنی سچائی جیسی عظیم صفت بھی پیدا کی ہے اور انسانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ سچائی کو اپنائیں، اس کو اپنی زندگی میں داخل کریں اوراس کواپناشیوہ اور وطیرہ بنائیں، اسی طرح اللہ ربّ العزّت نے جھوٹ کو بھی پیدا کیا مگر اس سے بیحد ڈرایا،اس سے دوررہنے کی تلقین کی،اس کی مذمت کی اوراس کے برے نتائج سے بھی آگاہ فرمایا-
اگر اللّہ ربّ العزّت کی جانب سے سچائی کو اپنانے اور جھوٹ سے پرہیز کرنے کا حکم نہ ہوتا تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ،ہر انسان ایک دوسرے سے جھوٹ بولتا، اس لیے کہ جھوٹ بولنا بے حد آسان ہوتا ہے، دل تھوڑا سا جھوٹ کی طرف مائل ہوا اور ہونٹوں میں حرکت ہوئی جھوٹ نکل گیا، جب کہ سچ بولنا بہت مشکل ہے، بہت زیادہ جاں گسل اور کٹھن ہے،عموماًسچ کی طرف دل کو مائل ہونے میں بھی دیر لگتی ہے، اور سچ کے لیے ہونٹ بھی لرزتے ہوئے کھلتے ہیں،… ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ سچ یا جھوٹ کی نوبت ہی اس وقت آتی ہے جب معاملہ پھنستا ہوا نظر آتا ہے، اور عموما اس کے پیچھے کوئی ڈر اور کوئی خوف پوشیدہ ہوتا ہے، کہیں مال کے ضائع ہونے کا ڈر ،کہیں جان جانے کا ڈر ، کہیں لوگوں کی نظروں سے گر جانے کا ڈر، تو کہیں نوکری چلی جانے کا ڈر،اسی طرح کہیں استاذکاڈر، تو کہیں طلبہ کاڈر، کہیں بیوی کا ڈر ،تو کہیں شوہرکاڈر، کہیں ذمہ داروں کاڈر توکہیں کسی اورکا ڈر، اور یہ ڈر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سے جانے انجانے میں کوئی ایسا عمل سرزد ہو جاتا ہے جس کا اظہار معیوب ہو، یا اس کی وجہ سے کسی پریشانی کا اندیشہ لاحق ہو،اوروہ اس پریشانی سے بچنے کے لیے کوئی بہانہ تلاشتا ہو، کوئی خوبصورت سا بہانہ بنا کر اپنا دامن بچا لینا چاہتا ہو،ایسا کرنے پر وقتی طور پر تو وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے، مگرجھوٹ تو جھوٹ ہے، اس کا پردہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں ضرورفاش ہو جاتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ “جھوٹ کا انجام برا ہوتا ہے”-جھوٹ انتہائی مبغوض اور ناپسندیدہ صفت ہے،جھوٹ سے اعتماد کاخاتمہ ہوجاتاہے،جھوٹ جہاں بہت ساری برائیوں کاسبب ہے وہیں جھوٹ سےانسان اخلاقی معیارسے بھی گرجاتاہے اورجھوٹ سے آپسی تعلقات بھی کمزور پڑجاتے ہیں،جب کہ سچ سے آپسی اعتماد بحال ہوتاہے اور سچ سے انسان کوبلندی ملتی ہے،سچ ایک اعلیٰ ترین خصلت ہے،جب انسان سچ کو اپناتاہے توفطری طور پر اس کے دل سے اللّٰہ کے سوا تمام لوگوں کا ڈر نکل جاتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللّٰہ تو مجھے دیکھ رہا ہے، مجھےاس کے سامنےیقیناً جوابدہ ہوناہوگا،ممکن ہے اس دنیا میں جھوٹ بول کر نکل جاؤں مگر کل قیامت کے میدان میں جب اللّٰہ کے سامنے میری پیشی ہوگی تو کیا جواب دوں گا؟ نتیجةً ایسا انسان برائیوں سے بچ جاتا ہے، یا کوئی ایسی حرکت کرنے سے گریز کرتا ہے جس کے کرنے کے بعد ندامت ہو- اللّٰہ ربّ العزّت نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: “یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین”[سورۂ توبہ:۱۱۸] یعنی اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
خود محسن انسانیت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا-سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طور پر تسلیم کی گئی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی اسی لیے شریعت اسکامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے، اور ہر حال میں سچ بولنے کی تاکید کی گئی ہے* نبی اکرم صلّی اللّہ علیہ وسلّم نے ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم بھی دی اور جھوٹ بولنے سے منع بھی فرمایا، آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے یہاں تک کہ آپ کو نبی و رسول نہ ماننے والوں نے بھی آپ کی سچائی اور امانتداری سے متاثر ہوکر آپ کو صادق اور امین جیسے القاب سے نوازا تھا، تمام انبیائے کرام نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تاکید فرمائی –
اسلام میں سچائی کی اتنی اہمیت ہے کہ ہر مسلمان کو سچ بولنے کے علاوہ اس کی بھی تاکید فرمائی گئی ہے کہ ہمیشہ سچوں کے ساتھ رہے اور سچوں کی صحبت میں رہے -حدیث پاک میں ہے کہ نبی رحمت صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ایک موقع پر صحابہ سے فرمایا کہ “جو یہ چاہے کہ اللّٰہ اور اس کے رسول سے اس کو محبت ہو، یا اللّٰہ اور اس کے رسول اس سے محبت کریں تو اس کے لئے لازم ہے کہ جب بات کرے تو ہمیشہ سچ بولے” اسی طرح ایک حدیث میں حضور نبی اکرم صلّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے فرمایا: سچائی اختیار کرو اگرچہ تمہیں اس میں بربادی اور موت نظر آئے، دراصل نجات اور زندگی سچائی میں ہے، اور جھوٹ سے پرہیز کرو اگرچہ اس میں بظاہر کامیابی اور نجات نظر آئے کیونکہ جھوٹ کا انجام بربادی اور نامراد ہے-
سچ نجات کی کنجی ہے اور جنت تک پہنچانے والا ایک ایسا عمل ہے جس کی فضیلت فرمان الٰہی اور ارشادات رسالت میں ایک وسیع ذخیرہ ہمارے لئے مہیا ہے، اسلام کی نظر میں قول کی سچائی اسی وقت قابل قبول ہے جب کہ عمل میں بھی اسی کی مطابقت ہو –
ایک روایت میں رسول اکرم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم سے پوچھا گیا: اہل جنت کی علامت کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا سچ بولنا، اسی کے بالمقابل ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جھوٹ بولنا منافق کی نشانیوں میں سے ہے،بلاشبہ سچائی ایک مسلّمہ اخلاقی قدر ہے، دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے سچائی کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین نہ کی ہو، اور دنیا کا کوئی معلّم ایسا نہیں جس نے سچ پرکاربندرہنے کادرس نہ دیاہو، اسلام نے تو خاص طور پر سچائی کو اہمیت دی ہے،سچائی میں بہت سے روحانی اور معاشرتی فوائد بھی مضمر ہیں، سچ بولنے سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے، اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، اور اسے کسی قسم کا کوئی خدشہ نہیں رہتا ،اس کے برعکس جھوٹ بولنے والا ہمیشہ پریشان رہتا ہے اوراسے خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں اس کے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے اور اسے ذلّت و رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے-
سچ بولنے سے چہرے پر رونق و تازگی رہتی ہے اور جھوٹے آدمی کا چہرہ اس نور سے محروم ہوتا ہے،اس کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ واقعی سچے کے چہرے پر رونق دکھائی دیتی ہے اور جھوٹے کے چہرے پر لعنت برستی نظر آتی ہے، اور خود قرآن کریم میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے “لعنة الله علی الکاذبین” کہ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے-
یوں تو حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی ذات طیّبہ میں بے شمار صفات موجود تھیں جن کو شمار کرنا تقریباً ناممکن ہے، لیکن حضور کی دو صفتیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ سے اہل مکہ آپ کو یادکیا کرتے تھے،اور وہ “صادق”اور”امین” ہیں-لہٰذاجس شخص کے اندریہ دوصفتیں پائی جائیں تو وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہے، کیونکہ جب انسان سچ بولتا ہے تو سچ کا راستہ اس کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی کا راستہ جنت کی طرف لے جاتا ہے اور بندہ سچ بولتا ہے یہاں تک کہ وہ اللّٰہ کے نزدیک سچّا لکھ دیا جاتا ہے، یہی حدیث شریف کا مفہوم بھی ہے، اس لیے ہمیں سچ بولنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور اپنے ہر قول و فعل میں سچ کواپناناچاہیئے، اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ سچّاشخص صدق کے درجہ سے صدیقین کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے،حدیث شریف میں ہے”التّاجرالصدوق الامین مع النّبیّین والصدّیقین والشھداء”یعنی سچااور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا- اب اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ چوبیس گھنٹے اس کی نیکی ہی لکھی جائے تواس کوچاہیئے کہ وہ بازار یا دفتر یا کسی جگہ پر بھی بیٹھتا ہو، وہ سچائی اور امانتداری کی نیت کے ساتھ بیٹھے ، تو اللّٰہ کی رحمت سے یہ امّیدہے کہ جواجر مسجدمیں ملتاہے وہی اجر دکان اور دفتر میں بھی ملےگا-
انسان کے تمام اخلاقِ رزیلہ میں سب سے زیادہ بری اور مزموم صفت”جھوٹ”کی ہے، جھوٹ چاہے زبان سے بولاجائےیاعمل سے ظاہر ہوجائے بہرحال یہ تمام قولی اور عملی برائیوں کی جڑ ہے-اور جھوٹے شخص سے محض جھوٹ بولنے کی وجہ سے دوسری کئی برائیاں لازمی طورپر صادر ہوجاتی ہیں-اسی وجہ سے قرآن مقدّس میں اللّٰہ تعالیٰ نے “جھوٹ” کے ساتھ دوسری بھی کئی برائیوں کاذکر فرمایاہے……چنانچہ ایک جگہ ارشادہے”ترجمہ:وہ[شیاطین] ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو”……ایک دوسری مقام پر ارشاد ہے”ترجمہ:بے شک اللّٰہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حدسے گذرنے والا[اور]جھوٹ بولنے کاعادی ہو”…اور حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے”جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں لے جاتاہے، اورآدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے یہاں جھوٹا لکھ دیا جاتاہے”…… حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یارسول اللہ! دوزخ میں لے جانے والا کام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جھوٹ بولنا ، جب آدمی جھوٹ بولے گا تو گناہ کے کام کرے گا، اور جب گناہ کے کام کرے گا تو کفر [کفر کے کاموں میں سے کوئی کام] کرےگا،اور جو کفر کرے گا وہ دوزخ میں جائے گا” اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کی برائی کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ کفربھی اس میں آجاتا ہے، جس سے زیادہ بری چیز کوئی دوسری نہیں اور جس کے لیے نجات کا ہر دروازہ بند ہے،……ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور نبی رحمت صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: کہ “منافق کی تین نشانیاں ہیں، {۱} جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا {۲} جب وعدہ کرے گا تو اس کی خلاف ورزی کرے گا {۳}اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے گی تو وہ اس میں خیانت کرے گا”-
بظاہرتو یہ تین مختلف باتیں ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی کی تین مختلف صورتیں ہیں،جھوٹی باتیں کرناتو جھوٹ ہے ہے ہی، مگر وعدہ کرکے اس کو پورا نہ کرنا ،اور امین بن کر امانت میں خیانت کرنا یہ بھی توایک قسم کے عملی جھوٹ ہی ہیں-
جھوٹ بولنااتنی بری چیز ہے کہ اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے،اللّٰہ کے رسول صلّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے فرمایا:”اذاکذب العبدتباعدعنه الملک میلاًمن نتن ماجاءبه” یعنی جب بندہ جھوٹ بولتاہے تو فرشتے اس سےاس کے جھوٹ کی بو کی وجہ سے ایک میل دور چلےجاتے ہیں”……لہٰذا ہم سبھی مسلمانوں کو چاہیئے کہ جھوٹ بولنےاور جھوٹی باتوں کے بیان کرنے سے بچیں،کیونکہ جھوٹ بولنامنافق کی نشانیوں میں سے ہے، اورجھوٹ بولنے والا جہنّم کے سب سے نیچے طبقہ میں رہےگا-
ایک حدیث پاک کامفہوم ہے کہ “حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم سے کسی نے دریافت کیاکہ یارسول اللّٰہ!کیا مومن بخیل ہوسکتاہے؟توحضورنے فرمایا:ہاں!ہوسکتاہے، پھرسوال کیاگیا:کیامومن بزدل ہوسکتاہے؟تو آپ نے فرمایا:ہاں ہوسکتاہے،پھر سوال کیا گیا کہ کیا جھوٹا ہوسکتاہے؟ توحضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے فرمایا:نہیں ہوسکتا،یعنی جھوٹ کی عادت ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی”……اسی طرح سنی سنائی باتوں کوبغیرتحقیق کےبیان نہیں کرناچاہیئے،کیونکہ اس طرح انسان بعض مرتبہ جھوٹ میں مبتلا ہوجاتاہے،اور حضور سرکار مدینہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے فرمایا:”کفیٰ بالمرءکذباً یحدث بکل ماسمع”کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی باتوں کو بیان کرتا پھرے-
بہت سےلوگ دنیا میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں جوبظاہرسچے معلوم ہوتےہیں مگرحقیقت میں وہ سچے نہیں ہوتے،بات کوگھماپھراکر سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مگر سچ کے پردے میں جھوٹ کوچھپانا سخت ترین گناہ ہے-اس کے علاوہ جس بات کے کہنے سے کوئی فتنہ پیداہو،چاہے وہ بات سچ ہی کیوں نہ ہو،اسے کہنابالکل ہی غیرمناسب ہے،اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیشہ سچ بولیں اور جھوٹ کبھی نہ بولیِں تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اندرتقویٰ اور خشیّتِ الٰہی پیدا کریں،اس لئے کہ جس انسان کے بھی دل میں خوفِ خداوندی جاں گزیں ہوجائے،اوروہ صحیح معنوں میں اللّٰہ سے ڈرنے لگے تو وہ جھوٹ ہی کیا کسی بھی برائی کے قریب نہیں جائے گا،اس لئے ہم سبھی مسلمانوں کوچاہیئے کہ ہم خداسے ڈرتے رہیں اورسچائی اور سچے کاموں کی جانب راغب ہوں،جھوٹ،غیبت،چغلی،تکبر وحسد اور اس طرح کی جملہ برائیوں سے اپنے آپ کو بچائیں!
اللّٰہ وحدہ لاشریک ہم سبھی لوگوں کواوامرپر عمل پیرا ہونے اور منہیات سے بچنے کی توفیق سعیدبخشے!
آمین!

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

خوف خدا: اللہ کے قرب کا ایک اہم ذریعہ.. ازقلم:مولاناخیرمحمدقادری انواری مدرس:دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤ شریف،گرڈیا،ضلع:باڑمیر (راجستھان)

تقویٰ و خوف ِالٰہی کی خوبی انسان کو اللہ رب العزت کے بہت زیادہ قریب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے