Breaking News

روداد قلب مضمحل، از کہف الوریٰ مصباحی صدر راشٹریہ علما کونسل لمبنی پردیس بانکے نیپال

غزل

اس دل کی وسعت کیا کہنا اک دنیا ہے آباد یہاں
پر اس کی ندرت کیا کہنا ہر کوئی نہیں ہے شاد یہاں
یوں کہنے کو تو ملتے ہیں دل دار یہاں دل شاد یہاں
پر دل کی حقیقت کیا جانے ہم راز دل ناشاد یہاں
دل ٹوٹ گیا ہے جب سے پھر دل جوڑنے والا مل نہ سکا
ہر دل کا معالج بیٹھا ہے دل بر کی لیے فریاد یہاں
بس شیریں لیلی کرتے ہیں یہ دل کے لٹیرے کیا جانیں
ہر خبطی مجنوں بن بیٹھا ہر شخص بنا فرہاد یہاں
اس دنیا کے مے خانے میں دل دوز ہیں ساغر کے فتنے
اب توڑ دے جام و مینا تو ہے جام لیے صیاد یہاں
دل عشق بنا ویران ہوا جب عشق ہوا حیران ہوا
کیا کیا دل پر قربان ہوا ہے کس کو خبر تعداد یہاں
ہم دل کے مریضوں کا ازہر اب کوئی نہیں حامی یاور
کیوں دل کی سنائے جاتا ہے دردوں سے بھری روداد یہاں

About محمد شاہد رضا برکاتی

Check Also

سید خادم رسول عینی اور نور مناقب۔۔۔۔۔۔۔از قلم : احسن امام احسن، بھوبنیشور اڈیشا

خادم رسول عینی کو ادبی گروپوں میں پڑھتا رہا ہوں ۔ پھر اس کے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے